جس دیس سے ماؤں بہنوں کو
اغیار اٹھا کر لے جائیں
جس دیس سے قاتل غنڈوں کو
اشرار چرا کر لے جائیں
جس دیس کی کوٹ کچہری میں
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
جس دیس کے چپے چپے پر
پولیس کے ناکے لگتے ہوں
جس دیس ک مندر مسجد میں
ہر روز دمھاکے ہوتے ہوں
جس دیس میں جان کے رکھوالے
خود جانیں لیں معصوموں کی
جس دیس کے حاکم ظالم ہوں
سسکیاں نہ سنیں مجبوروں کی
جس دیس کے عادل بحرے ہوں
آہیں نہ سنیں معصوموں کی
جس دیس کی گلیوں کوچوں میں
ہر سمت فحاشی پھیلی ہو
جس دیس میں بنتِ حوا کی
چادر داغ سے میلی ہو
جس دیس کے ہر چوراہے پر
چوبیس بکاری پھرتے ہوں
جس دیس میں روز جہازوں سے
امدادی تھیلے گرتے ہوں
جس دیس میں غربت مأوں سے
اپنے بچے نیلام کرواتی ہو
جس دیس کے عہدے داروں سے
عہدے نہ سمبھالے جاتے ہوں
جس دیس کے سادا لو انسان
وعدوں پہ ہی ڈالے جاتے ہوں
اُس دیس کے رہنے والوں پر
ہتھیار اٹھانا واجب ہے
اس دیس کے ہر ایک لیڈر کو سولی پہ چڑھانا واجب ہے
فیض احمد فیض
Comments